حافظہ حمنہ مشتاق · کلینیکل ڈائٹیشن
گردے کی بیماری: کوئی ایک 'گردے کی ڈائٹ' کیوں نہیں ہوتی، اور اس کی جگہ کیا کھائیں
کیلا کبھی نہ کھائیں۔ پروٹین بالکل چھوڑ دیں۔ پانی کم پئیں۔ اگر آپ کو گردے کی دائمی بیماری ہے تو شاید یہ تینوں باتیں آپ سے کہی گئی ہوں گی۔ ان میں سے کچھ آپ کے لیے درست ہو سکتی ہیں، کچھ نقصان دہ۔ یہاں بتایا گیا ہے کہ گردے کی غذائیت اصل میں کیسے کام کرتی ہے۔
پڑھنے کا وقت تقریباً 4 منٹ

گردے کی دائمی بیماری کی تشخیص کے بعد بہت سے مریض سب سے پہلے "گردے کی ڈائٹ" تلاش کرتے ہیں۔ انہیں ممنوعہ کھانوں کی فہرست ملتی ہے: کیلا نہیں، ٹماٹر نہیں، دال نہیں، گوشت نہیں، دودھ نہیں، پانی کم پئیں۔ میرے کلینک تک پہنچتے پہنچتے وہ کھانے سے ڈرے ہوئے ہوتے ہیں اور اکثر بہت کم کھا رہے ہوتے ہیں۔
تو سب سے اہم بات پہلے کہہ دوں۔ گردے کی کوئی ایک ڈائٹ نہیں ہوتی۔ آپ کے لیے کیا درست ہے، یہ آپ کے گردے کی بیماری کے اسٹیج، خون کے ٹیسٹ، دواؤں، اور اس بات پر منحصر ہے کہ آپ ڈائیلاسز پر ہیں یا نہیں۔ ایک ہی مشورہ ایک شخص کے لیے غیر ضروری اور دوسرے کے لیے واقعی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
آپ کے گردے کیا کرتے ہیں
آپ کے گردے خون سے فاضل مادے اور اضافی پانی چھانتے ہیں، اور سوڈیم، پوٹاشیم اور فاسفورس جیسے معدنیات کا توازن رکھتے ہیں۔ جب گردے کی کارکردگی کم ہوتی ہے، شروع میں اکثر بغیر واضح علامات کے، تو یہ توازن برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی لیے CKD میں غذائیت اتنی اہم ہے، اور اسی لیے مشورہ کسی عمومی فہرست کے بجائے آپ کے نتائج پر چلنا چاہیے۔
پانچ چیزیں جو بدلتی ہیں
نمک (سوڈیم)۔ یہ وہ تبدیلی ہے جو CKD والے تقریباً ہر شخص پر لاگو ہوتی ہے۔ کم نمک بلڈ پریشر میں مدد دیتا ہے، جو گردوں کی حفاظت کرتا ہے، اور پانی کا جمع ہونا کم کرتا ہے۔ ہمارا زیادہ تر نمک کھانا پکانے کے نمک، اچار، چٹنی، پاپڑ، نمکو اور پیکٹ والے کھانوں سے آتا ہے۔ اس کی جگہ لیموں، ہری مرچ، دھنیا اور مصالحوں سے ذائقہ دیجیے۔
پروٹین۔ یہاں عمومی مشورہ سب سے زیادہ غلط ہوتا ہے۔ اگر آپ کو CKD ہے اور آپ ڈائیلاسز پر نہیں ہیں تو آپ کی ٹیم معتدل پروٹین کا مشورہ دے سکتی ہے، مگر صفر نہیں: بہت کم پروٹین پٹھوں کی کمی اور غذائی قلت کا سبب بنتا ہے، جو ہر چیز کو بدتر کرتا ہے۔ اگر آپ ڈائیلاسز پر ہیں تو پروٹین کی ضرورت عموماً بڑھ جاتی ہے، کیونکہ علاج کچھ پروٹین نکال دیتا ہے۔ درست مقدار آپ کے نتائج اور اسٹیج سے طے ہوتی ہے۔
پوٹاشیم۔ کیلا، مالٹا، ٹماٹر، آلو، دال اور خشک میوہ سب پوٹاشیم سے بھرپور ہیں۔ یہ صرف تب محدود کیے جاتے ہیں جب آپ کے خون میں پوٹاشیم زیادہ ہو۔ CKD والے بہت سے لوگ پھل اور سبزیاں کھا سکتے ہیں اور کھانی بھی چاہئیں۔ جب حد ضروری ہو تو مقدار اور پکانے کا طریقہ (جیسے آلو اُبال کر پانی پھینک دینا) پوری فوڈ گروپس پر پابندی سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔
فاسفورس۔ گردے کی کارکردگی کم ہونے پر فاسفیٹ جمع ہو کر ہڈیوں اور خون کی نالیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ سب سے بڑے مجرم قدرتی کھانے نہیں بلکہ پروسیسڈ کھانوں اور کولڈ ڈرنکس میں فاسفیٹ ایڈیٹوز ہیں۔ لیبل پر "phos" والی چیزیں دیکھنا اکثر دودھ یا دال چھوڑنے سے زیادہ مفید ہے۔
پانی۔ ابتدائی CKD والے زیادہ تر لوگوں کو پانی محدود کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، اور بہت کم پینا گردوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ پانی کی حد عموماً بعد میں، یا ڈائیلاسز پر آتی ہے، اور اسے آپ کے نیفرولوجسٹ طے کرتے ہیں۔
پاکستانی کھانا اور گردے
ہماری روزمرہ غذا بذاتِ خود مسئلہ نہیں۔ دال، روٹی، سبزی، چکن، مچھلی، دہی اور چاول سب گردے کے پلان میں آ سکتے ہیں۔ جس پر عموماً توجہ چاہیے وہ کھانے اور اچار کا نمک، کولڈ ڈرنکس اور پیکٹ والے اسنیکس کا فاسفیٹ، اور پروٹین کی مقدار ہے، جس سمت میں بھی آپ کے نتائج کہیں۔
تازہ کھانے، سوچی سمجھی مقدار اور کم پروسیسڈ خوراک تقریباً سب کی مدد کرتی ہے۔ مگر براہِ کرم پوٹاشیم والے کھانے، پروٹین یا پانی خود سے نہ چھوڑیے۔ ان فیصلوں کے لیے آپ کے نتائج اور آپ کی ٹیم چاہیے۔
اگر آپ کو ذیابیطس یا بلڈ پریشر بھی ہے
پاکستان میں گردے کی بیماری کی یہ دو سب سے عام وجوہات ہیں، اور میرے گردے کے زیادہ تر مریضوں کو ان میں سے کم از کم ایک ہے۔ پلان کو تینوں میں توازن رکھنا ہوتا ہے: مستحکم شوگر، کم بلڈ پریشر اور گردے کے مطابق مقدار۔ یہ زیادہ تفصیلی ہے، مگر اسی کھانے کے ساتھ بالکل ممکن ہے جو آپ پہلے سے پکاتے ہیں۔
کنسلٹیشن پر کیا لائیں
اپنے حالیہ خون اور پیشاب کے ٹیسٹ، خاص طور پر eGFR، کریٹینین، پوٹاشیم، فاسفیٹ، سوڈیم، البیومن اور HbA1c، اور دواؤں کی مکمل فہرست۔ جو گھر میں کھانا بناتا ہے اسے بھی ساتھ لائیے۔ گردے کی غذا نتائج کے ساتھ بدلتی ہے، اس لیے باقاعدہ جائزہ اہم ہے، اور آپ چاہیں تو میں پلان آپ کے نیفرولوجسٹ کے ساتھ شیئر کرتی ہوں۔
اپنے نیفرولوجسٹ کے بغیر تجویز کردہ دوائیں یا پانی کی حد کبھی تبدیل نہ کیجیے۔
حوالہ جات
- NHS, Chronic kidney disease: living with
- NICE NG203, Chronic kidney disease: assessment and management
- KDIGO 2024, Clinical practice guideline for the evaluation and management of CKD
- National Kidney Foundation, Nutrition and kidney disease
یہ مضمون صرف عمومی معلومات کے لیے ہے اور انفرادی طبی یا غذائی مشورے کا متبادل نہیں۔ اپنی دوا میں کوئی بھی تبدیلی ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہ کریں۔ Medical disclaimer